کوئٹہ میں مہنگائی کی یلغار، سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی

  • October 27, 2025, 1:40 pm
  • Business News
  • 189 Views

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں مہنگائی کی بے قابو لہر نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش خصوصاً سبزیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ شہریوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی غفلت اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی غیر فعالیت نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں، سبزی منڈیوں اور ریڑھی بازاروں میں سبزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ٹماٹر 250 روپے فی کلو، پیاز 300 روپے، آلو 400 روپے فی پانچ کلو، مٹر 400 روپے، عربی 250، شلجم 150، فراز 200، کدو 250، سبز مرچ 400، لیموں 160 روپے، پالک کی گڈی 70 روپے، توری 150، بینگن 150، شملہ مرچ 200، بند گوبھی اور پھول گوبھی 200 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہیں۔

ان ہوشربا نرخوں نے شہریوں کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی مشکل بنا دیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور حکومتِ بلوچستان صرف بیانات تک محدود ہیں، عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔

سبزی فروشوں کے مطابق بلوچستان میں مقامی فصلوں کی کمی کے باعث زیادہ تر سبزیاں دوسرے صوبوں سے منگوائی جاتی ہیں، جس کے باعث ٹرانسپورٹ اخراجات اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست صارفین پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ تاہم شہریوں کا مؤقف ہے کہ اصل مسئلہ انتظامیہ کی نااہلی اور عدم نگرانی ہے۔

پرائس کنٹرول کمیٹیاں غیر فعال ہو چکی ہیں، نرخ نامے صرف کاغذوں تک محدود ہیں، اور مارکیٹوں میں من مانی قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں۔

عوامی نمائندوں اور سماجی تنظیموں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری پرائس کنٹرول مہم شروع کرے، ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کرے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے جلد اقدامات نہ کیے تو مہنگائی کے ستائے عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائیں گے۔